تیاری کیلئے ایشیائی شراکت داری (ایشےئن پری پئیرڈنس پارٹنر شپ)

ناگہانی آفات سے نمٹنے کی تیاری کیلئے ایشیائی شراکت داری پروگرام (اے پی پی) کا آغاز ایشیائی ڈیزاسٹر کی تیاری کے مرکز ( ایشےئن ڈیزاسٹر پرپےئرڈنس سنٹر) اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقد ہوا جس کا مقصد ایشیاء میں کسی بھی ہنگامی صورتحال اور آفات سے نمٹنے کے لئے بہتر تیاری کرنا ، قومی حکومت ،مقامی رضا کارانہ تنظیموں اور اداروں کی تکنیکی صلاحیتوں کو بڑھانا تا کہ وہ انسانی حقوق کے فریم ورک میں مشغول ہو کر اس میں بہتری لا سکیں۔یہ پروگرام انسانی حقوق کی علمبردار مقامی تنظیموں اور اداروں کے درمیان باہمی روابط پیدا کرنے ، قومی حکومت سے مذاکرات اورشراکت داری کی بنیاد پر انٹرایجنسی نیٹ ورک قائم کرنے ، معلومات کا تبادلہ ، معلومات کے ذرائع، تربیت اور نیٹ ورکنگ کے مواقع فراہم کرنے کے ذریعے بین الاقوامی تنظیم سازی کے تعاون کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوگا۔
اے ڈی پی سی نے2012میں او ایف ڈی اے کے ساتھ کمبوڈیا میں ایک پائلٹ پروگرام’’ کمبوڈین انسانی فورم (سی ایچ ایف) ‘‘ شروع کیا جو مقامی افراد کے نیٹ ورک کے ذریعے خوش اسلوبی سے کامیابی کی جانب گامزن ہے۔ مقامی غیر سرکاری تنظیموں کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لئے کمبوڈین انسانی فورم نے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ تیاری ایشیائی شراکت داری دراصل اسی آئیڈیا کو آگے بڑھانے کے سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔
تیاری کیلئے ایشیائی شراکت داری پروگرام (اے پی پی) قومی اور مقامی سطح پر آفات سے نمٹنے کی تیاری اور ہنگامی حالات میں فوری اور مؤثر ردِعمل کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ اے پی پی کا مقصد قومی حکومت اور مقامی انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کے ذریعے افراد کے نیٹ ورک کو ملکی سطح پر ترقی دینا ہے تا کہ قدرتی آفات کے موقع پر باہمی تعاون میں اضافہ، اورمعلومات کا تبادلہ ہو سکے۔
شرکاء ممالک: کمبوڈیا، میانمار، نیپال، پاکستان، فلپائن اور سری لنکا۔
مقصد (گول):
اس پروگرام کے تحت حکومت اور مقامی انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کے درمیان باہمی روابط مضبوط بناتے ہوئے تیاری میں بہتری لانا، آفات کے خلاف ہنگامی حالات میں مؤثر ردِ عمل اور شراکت داری کے ذریعے صلاحیتوں میں اضافہ، معلومات کا تبادلہ، معلومات کے ذرائع، تربیت، اور باہم تعاون کے مواقع کو بڑھانا ہے۔

مقاصد:
* منظم نظام وضع کرنا اور مقامی اداروں کو مضبوط کر کے انسانی قیادت اور تعاون کو بہتر بنانا۔
* اانفارمیشن مینجمنٹ، معلومات کاتبادلہ ، باہم روابط کو مربوط بنانا اور استعداد کار میں اضافہ کرنا۔
* فنڈز کے بارے میں معلومات تک فوری اور مساوی رسائی۔
* قومی اور مقامی سطح کے رضا کاروں کے ساتھ مزید مؤثر شراکت داری قائم کرنا
اے پی پی کے زیر اہتمام اقدامات:
مقامی اداروں کی منظم مضبوظی کے ذریعے فلاحی اداروں کے درمیان ربط کی بہتری
* ملک کی بنیادی مخصوص سمت کے تعین کے لئے موجودہ سیاق و سرگرمیوں کو مدِ نظر رکھ کرمطالعہ کرنا اور قومی حکومت، مقامی غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے ذریعے مؤثر ردِ عمل۔
* علاقائی، قومی اور ذیلی قومی اسباق کی ورکشاپوں کے ذریعے قومی سطح پر افرادی فورم کو منظم اور مؤثر بنانا۔
* باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرنا اور باہمی روابط وتعاون کو بڑھانا۔
انفارمیشن مینجمنٹ اور معلومات کے تبادلہ کو بہتر بنانا:
* متعلقہ ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے ، آفات کے خلاف تیاری اور ہنگامی حالات میں مؤثر ردِ عمل کے لئے آن لائن پلیٹ فارم (ون سٹاپ نالج ہب) کی تشکیل۔
* ایشیاء کے اندر اور اس سے باہر وسطی امریکہ اور افریقہ تک علاقائی سطح پر نیٹ ورکنگ کا قیام اور معلومات کا تبادلہ۔
استعداد کار میں اضافہ اور تعلیم و تربیت:
* متعلقہ ممالک میں قومی اور مقامی سطح کی غیر سرکاری تنظیموں اور سول سائٹی کے گروپوں کی لازمی تربیت کے لئے تجزیہ کرنا۔
* ٹریننگ کے نصاب کو فروغ دینا اور مقامی غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی گروپوں کے درمیان تعلیم و تربیت اور سیکھنے کی غرض سے ایک سہولیاتی مرکز کا قیام عمل میں لانا۔